Skip to main content

Posts

Showing posts from April, 2018

پشتئن منظور اور یہ ملک

ھ پشتین تحفظ موومنٹ کے بارے میں  چیزوں کو ایک مخصوص طریقے سے ایک خاص جانب موڑا جا رہا ہے پشتین تحفظ موومنٹ کو نقیب اللہ محسود کی شہادت سے شروع کیا گیا، پھر فاٹا کے حقوق کا مسلہ بنایا گیا، پھر ریاست اور فوج کے خلاف نعرے بازیاں کی گئیں۔ بات گالیوں اور دھمکیوں سے بڑھ کر محاذ آرائی تک آ گئی  پھر بھی کچھ نہ ہوا تو لاہور کا رخ کر لیا تا کہ جو کچھ بھی ہو اس کو پنجاب یا پنجابی ایسٹبلشمنٹ کے کھاتے میں ڈال کر نئی لڑائی شروع کی جا سکے۔  اتفاق سے پشتین تحفظ موومنٹ کو اول دن سے سپورٹ کرنے والی وہ تمام قوتیں ہیں جنہوں نے آج تک پاکستان کو ہی سرے سے تسیلم نہیں کیا۔ تمام لبرل سیکولر طبقعے جو پچھلی کئی دہائیوں سے ایجنڈوں پر کام کر رہے ہیں، وہ اس تحریک کو سپورٹ کر رہے ہیں لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ آج تک اس طبقعے نے جو پشتونوں کے حقوق میں فتنہ پھیلا رہا ہے، اس نے فاٹا کو کے پی کے میں ضم کرنے کے حوالے سے آواز نہیں اٹھائی۔  آج ایم کیو ایم کے بانی اور قائد الطاف حسین نے بھی پشتین تحفظ موومنٹ کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے اور پاکستان مخالف حلقوں میں اس کو بہت زیادہ سراہا جا رہا ہے۔  اب فیصلہ پاکستان سے محبت کرن…

عمران خان ایک ایماندار انسان

ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺧﺎﻥ ﺍﺧﻼﺹ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﻤﺎﻧﺪﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﭘﮩﺎﮌ
ﺿﯿﺎﺀ ﺍﻟﺤﻖ ﻧﮯ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﯽ ﭘﯿﺸﮑﺶ ﮐﯽ
ﻧﻮﺍﺯ ﺷﺮﯾﻒ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻭﺯﯾﺮ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﯽ ﭘﯿﺸﮑﺶ ﮐﯽ
ﺑﮯ ﻧﻈﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﻧﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺷﻮﮐﺖ ﺧﺎﻧﻢ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﮐﮯ ﺍﻓﺘﺘﺎﺡ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺮﻭﮌﻭﮞ ﮐﮯ ﭼﻨﺪﮮ ﮐﯽ ﺁﻓﺮ ﮐﯽ
ﻣﺸﺮﻑ ﻧﮯ ﺗﯿﺲ ﺳﯿﭩﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻄﻢ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﯽ ﭘﯿﺸﮑﺶ ﮐﯽ
ﭘﺎﻧﺎﻣﮧ ﺍﯾﺸﻮ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺍﺭﺑﻮﮞ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﯽ ﺭﺷﻮﺕ ﭘﯿﺸﮑﺶ ﮐﯽ
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻋﺎﻡ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺷﺎﯾﺪ ﮐﮩﯿﮟ ﻧﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﭘﮭﺴﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﻔﺲ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮔﻤﺮﺍﮦ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺻﺮﻑ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺧﺎﻥ ﮐﺎ ﺣﻮﺻﻠﮧ، ﻇﺮﻑ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﻤﺎﻧﺪﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﻟﯿﻮﻝ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮨﺮ ﻣﻮﻗﻊ ﭘﺮ ﮨﺮ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﻞ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺻﻮﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﻤﺠﮭﻮﺗﮧ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺻﻮﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﮯ۔
ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯿﻮ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﻮ !! ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺧﺎﻥ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﮨﮯ، ﮐﮭﻮ ﺩﯾﺎ ﺗﻮ ﭘﭽﮭﺘﺎﺅ ﮔﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺧﺎﻥ ﮐﻮ ﮨﺮ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﺳﮯ ﺑﺎﻻﺗﺮﮨﻮ ﮐﺮ ﺳﭙﻮﺭﭦ ﮐﯿﺠﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﻠﮯ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮐﯿﺠﯿﮯ۔
ﺍﻧﺸﺎﺀﺍﻟﻠﮧ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺧﺎﻥ۔۔۔۔۔

ٹیکس ایمنسٹی اور پاکستان

ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭨﯿﮑﺲ ﺍﯾﻤﻨﯿﺴﭩﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻌﯿﺸﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﮑﯽ
ﺑﮩﺘﺮﯼ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﭨﯿﮑﺲ ﺍﯾﻤﻨﯿﺴﭩﯽ ﮐﺎ ﻋﻤﻮﻣﯽ ﮐﻠﭽﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﻣﻮﭨﮯ ﻻﻟﭻ ﺩﮮ ﮐﺮ ﭨﯿﮑﺲ ﺩﯾﻨﮯ ﭘﺮ ﺭﺍﺿﯽ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﮔﺎﺭﻧﭩﯽ ﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﻭﺍﺟﺐ ﺍﻻﺩﺍ ﭨﯿﮑﺲ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﺴﯽ ﺣﯿﻞ ﻭ ﺣﺠﺖ ﮐﮯ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﻣﺰﯾﺪ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﺎﻧﭻ ﭘﮍﺗﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔
ﺍﺱ ﺳﮯ ﺳﻤﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮉﯾﻢ ﺳﺎﺋﺰ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭﯼ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﺟﺐ ﺍﻻﺩﺍ ﭨﯿﮑﺲ ﺑﮭﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﻟﯿﻮﻝ ﭘﺮ ﺣﮑﻮﻣﺘﯿﮟ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭﯼ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﮐﻮ ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﮐﺎﺭﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﺮﻏﯿﺐ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺹ ﺭﻋﺎﯾﺖ ﮐﺎ ﻻﻟﭻ ﺩﮮ ﮐﺮ ﭨﯿﮑﺲ ﻟﮯ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺣﮑﻮﻣﺘﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺯﺑﺮﺩﺳﺘﯽ ﭨﯿﮑﺲ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭﯼ ﻟﻮﮒ ﻋﺪﺍﻟﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺭﺥ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﻮﮞ ﻣﻌﺎﻣﻼﺕ ﺗﺎﺧﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﺗﻌﻄﻞ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺗﺮﻗﯽ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯿﺴﺰ ﮐﻮ ﻋﺪﺍﻟﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﯾﮏ ﮈﯾﻞ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﺣﻞ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﭨﯿﮑﺲ ﻟﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭﯼ ﺷﺨﺺ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﭘﺮ ﺍﺛﺮﺍﻧﺪﺍﺯ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﺮﭘﺸﻦ، ﭨﮭﯿﮑﻮﮞ، ﮐﻤﯿﺸﻨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮐﮏ ﺑﯿﮑﺲ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﮐﻤﺎﺋﮯ، ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﻗﺎﻧﻮﻥ …