Skip to main content

اعلی عدلیہ کے بارے بارے دلچسپ حقائق

ﭼﮭﭩﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺁﻣﺪ ﺁﻣﺪ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﺩﻭ ﺩﻥ ﺳﮯ ﺳﻔﺮ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﮨﻮﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﮐﮯ ﭘﺮ ﻓﺮﺩ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﯽ ﺷﺎﭘﻨﮓ ﻟﺴﭧ ﻣﺮﺗﺐ ﮐﺮﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﭘﺎﺅﮞ ﮔﺎﮌﯼ ﮐﮯ ﺍﯾﮑﺴﯿﻠﯿﺮﯾﭩﺮ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﭘﺎﺅﮞ ﮈﯾﭙﺎﺭﭨﻤﻨﭩﻞ ﺳﭩﻮﺭﺯ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔
ﺁﺝ ﭘﻮﺭﮮ ﮐﻨﺒﮯ ﻧﮯ ﺳﻔﺮ ﭘﺮ ﻧﮑﻠﻨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﯼ ﻭﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﻻﺩ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻟﯿﻨﮉ ﮐﺮﻭﺯﺭ ﻣﻨﮕﻮﺍﺋﯽ ﮔﺌﯽ۔ ﺟﺐ ﺳﺐ ﻟﻮﮒ ﮔﺎﮌﯼ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﻧﮯ ﮔﺎﮌﯼ ﭼﻼﻧﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯼ۔
ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﺍﻟﯽ ﺳﯿﭧ ﭘﺮ ﺑﮍﮮ ﺟﺞ ﺻﺎﺣﺐ ﺧﻮﺩ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﮯ۔ ﺍﺑﮭﯽ ﮔﺎﮌﯼ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﻭﺭ ﮨﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﻮﮔﯽ ﮐﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺑﮍﮮ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﻣﯿﻦ ﮔﯿﭧ ﻻﮎ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ؟
ﺭﻭﺍﻧﮕﯽ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺍﻓﺮﺍﺗﻔﺮﯼ ﮐﺎ ﻋﺎﻟﻢ ﺗﮭﺎ، ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﮐﻮ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﺷﺎﯾﺪ ﻭﮦ ﮔﯿﭧ ﮐﺎ ﺗﺎﻻ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮨﭽﮑﭽﺎﮨﭧ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﺩﯾﺎ۔
ﺟﺞ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﭼﯿﺨﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮍﯼ ﺑﮭﻮﻝ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮﮔﺌﯽ؟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻏﻔﻠﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮐﺘﻨﺎ ﺑﮍﺍ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ۔ ۔۔ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺟﺞ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﮐﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﮔﺎﮌﯼ ﻣﻮﮌ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﮔﮭﺮ ﭼﻠﻨﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ۔
ﭼﻨﺪ ﻣﻨﭧ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﮔﯿﭧ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﺗﮭﮯ۔ ﺟﺞ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻭﺭ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﻧﯿﭽﮯ ﺍﺗﺮﮮ، ﮔﯿﭧ ﮐﻮ ﭼﯿﮏ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﮐﮧ ﻻﮎ ﻟﮕﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﺞ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺍﯾﮏ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﺑﮭﺮﺍ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﭼﻠﻨﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ۔
ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﮔﺎﮌﯼ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭼﻠﻨﮯ ﮐﮯ، ﺟﺞ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﯾﺎ، ﺍﭘﻨﯽ ﮐﭙﺘﺎﻥ ﭼﭙﻞ ﺍﺗﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﮔﻦ ﮐﺮ ﺳﭙﺮﯾﻢ ﮐﻮﺭﭦ ﮐﮯ ﺟﺞ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ 11 ﺟﻮﺗﮯ ﺭﺳﯿﺪ ﮐﺮﺩﯾﺌﮯ۔
ﺟﺞ ﮐﻮ ﻣﺎﺭ ﭘﮍﺗﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﮨﮕﯿﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﮐﭩﮭﮯ ﮨﻮﮔﺌﮯ۔ ﺟﺞ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻏﺼﮯ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﺎﺭﺍ؟
ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ :
ﺁﭖ ﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﺷﮏ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﻣﯿﻦ ﮔﯿﭧ ﮐﮭﻼ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺳﻔﺮ ﮐﮯ ﺑﯿﭻ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﭘﺲ ﮔﮭﺮ ﺁﮔﺌﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺗﺎﻻ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺗﺴﻠﯽ ﮐﺮﻟﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺍﺭﺑﻮﮞ ﺭﻭﭘﮯ ﻟﻮﭦ ﮐﺮ ﮐﮭﺎ ﮔﺌﮯ، ﭘﺎﻧﺎﻣﮧ ﮐﺎ ﮐﯿﺲ ﺻﺮﻑ 10 ﻣﻨﭧ ﮐﯽ ﭘﯿﺸﯽ ﮐﯽ ﻣﺎﺭ ﺗﮭﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺁﭖ ﺳﺐ ﺟﺞ ﻟﻮﮒ ﮐﯿﺲ ﺍﺩﮬﻮﺭﺍ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﭼﮭﭩﯿﺎﮞ ﻣﻨﺎﻧﮯ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ۔ ۔ ۔ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﮧ ﻣﻠﮏ ﮐﯽ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﯽ ﺧﻮﻥ ﺁﺷﺎﻡ ﺑﮭﯿﮍﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﮬﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﺗﻮ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻼ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﺗﻨﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﻣﻠﮑﯽ ﺧﺰﺍﻧﮯ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﮈﺍﮐﻮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺮﻭﺍﮦ ﻧﮩﯿﮟ؟؟؟
ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺭﺍﮨﮕﯿﺮﻭﮞ ﻧﮯ ﺗﺎﻟﯿﺎﮞ ﺑﺠﺎﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﮟ۔ ﺟﺞ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﮓ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺳﮩﻼﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺷﺮﻣﻨﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺳﮯ ﮈﻭﺑﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ :
ﺗﻢ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭩﯿﺎﮞ ﻣﻨﺎﻧﮯ ﻟﻨﺪﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﻗﻊ ﺩﺑﺌﯽ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﺎ۔ ۔ ۔
ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﻧﮯ 11 ﺟﻮﺗﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﺟﺞ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺭﺳﯿﺪ ﮐﺮﺩﯾﺌﮯ !!!

Comments

Popular posts from this blog

Azeem solved past papers for FSc chemistry part 2

Azeem past papers and books by Azeem group of acadmeis are the best books for learning and teaching as well Azeem chemistry of Fsc part 2 are very good guide which include past paers of punjab boards include Ajk and etc Azeem past papers are the best papers ever i see both in quality and quantity I really suggest the students to bye Azeem past solved papers for good result 










Best Urdu paper presentation for Matric and Fsc students

Urdu paper need more presentation to get good marks in it there for irdu paper presentation is very important for all matric and inter students specially for Fsc students sp here is the best urdu presentation for the matric and inter and Fsc students








قد کو کیسے بڑھایا جایا کیا خوارک لی جائے اور کیا ورزش کی جائے

اج کل کے نوجوان طبقہ میں ایک چیز کو بہت زیادہ اہمیت دی جارہی ہے اور وہ ہے قد کہ قد کو کیسے بڑھایا جایا اج ہم اس موضوع پر بات کریں گے اور دیکھیں گے کہ قد میں کونسی چیزیں زیادہ اہمیت کے حامل ہے اور قد کو کس طرح بڑھایا جا سکتا ہے
بڑے قد کی اہمیت
یہ بات تو طے ہے کہ لمبا قد  ایک اچھی نوید ہے لمبے قد والے کو زیادہ پذیرائی ملتی ہے اور وہ زیادہ نمایاں طور پر ابھرتا ہے اسکو سرکاری نوکری جیسے کہ پولیس فوج یا دوسرے اداروں میں نوکری کے حصول میں زیادہ مشکلات پیش نہیں اتی اور خصوصا لڑکیاں کو بھی بڑے قد کا شہزادہ ہی چاہئے ہوتا ہے😂😂😂 بہر لمبے قد کی افادیت بھی ہے اور نقصان بھی
لمبے قد کے نقصانات 
لمبے قد کے اگرچہ فائدے بہت زیادہ ہے مگر اسکے نقصانات بھی اتنے ہی زیادہ ہے عموما لمبے قد والوں کو خاصی تکلیف پیش اتی ہے کہ وہ اپنی لمبی لمبی ٹانگیں کیسے سمیٹ کر بیٹھے اور کیسے سکون کے ساتھ وقت گزارے اسکےعلاوہ اگر قد لمبا ہو مگر بندہ خود پتلا ہو تو اسکا بہت زیادہ مزاق اڑایا جاتا ہے
مناسب قد کتنا ہونا چاہئے
ماہرین کے مطابق مناسب قد زیادہ سے زیادہ ساڑھے چھ انچ ہو اور کم سے کم ساڑھے پانچ انچ ہونا چاپئے اس سے زیاد…