Skip to main content

سبق اموز کہانی

ﻭﮦ ﻻﮨﻮﺭ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﻀﺎﻓﺎﺗﯽ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﺎﮨﻨﮧ ﮐﺎﭼﮭﺎ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﺰﺩﯾﮑﯽ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﮐﺌﯽ ﺩﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺯﺵ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﺗﮭﯽ۔ ﮔﺎﺅﮞ ﮐﮯ ﺣﮑﯿﻢ ﺳﮯ ﻋﻼﺝ ﮐﺮﻭﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺍﻓﺎﻗﮧ ﻧﮧ ﮨﻮﺍ۔ ﭘﮭﺮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻻﮨﻮﺭ ﮐﮯ ﺩﻝ ﮔﻮﺍﻟﻤﻨﮉﯼ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﻗﻊ، ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺩﻭﺭ ﮐﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﯿﻮ ﮨﺎﺳﭙﭩﻞ ﻣﯿﮟ ﭼﯿﮏ ﮐﺮﺍﺅ۔
ﺟﻤﻌﮧ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻡ ﺍﻭﺭ ﺷﺪﯾﺪ ﺣﺒﺲ ﮐﺎ ﺩﻥ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﺻﺒﺢ ﺻﺒﺢ ﺳﻮ ﮐﺮ ﺍﭨﮭﺎ، ﻧﺎﺷﺘﮧ ﮐﯿﺎ، ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﺎﺅﮞ ﺳﮯ ﮈﮬﺎﺋﯽ ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﺩﻭﺭ ﮔﺠﻮﻣﺘﮧ ﭘﯿﺪﻝ ﭼﻞ ﮐﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ۔ ﯾﮧ ﻣﯿﭩﺮﻭ ﺑﺲ ﮐﺎ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﭩﺎﭖ ﺑﮭﯽ ﮬﮯ۔ ﭘﯿﺪﻝ ﭼﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻭﮦ ﭘﺴﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﺍﺑﻮﺭ ﮨﻮﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺑﺲ ﺳﭩﺎﭖ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﺁﮔﮯ ﻣﯿﭩﺮﻭ ﺑﺲ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺗﺮ ﺭﻋﻨﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﯿﺴﮯ ﺩﻟﮩﻦ ﺑﻨﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻭﮦ ﺳﯿﻨﮧ ﭼﻮﮌﺍ ﮐﺮﮐﮯ، ﻣﻨﮧ ﮨﯽ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺎﮞ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺍﭼﮭﻞ ﮐﺮ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺍﺭ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ ﺍﺋﯿﺮﮐﻨﮉﯾﺸﻨﺮ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﻗﺪﻡ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﮕﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﻭﮦ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﮨﻮ۔ ﺑﺲ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﻭﺍﻟﯽ ﺳﯿﭧ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻘﺘﺒﻞ ﮐﮯ ﺳﮩﺎﻧﮯ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮﮔﯿﺎ۔
ﺁﻧﮑﮫ ﺗﺐ ﮐﮭﻠﯽ ﺟﺐ ﺑﺲ ﺑﮭﺎﭨﯽ ﮔﯿﭧ ﭘﮩﻨﭻ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻭﮦ ﺟﻠﺪﯼ ﺟﻠﺪﯼ ﺑﺲ ﺳﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺍﺗﺮﺍ، ﺁﺩﮬﺎ ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﭘﯿﺪﻝ ﭼﻞ ﮐﺮ ﺳﺮﮐﻠﺮ ﺭﻭﮈ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﭼﻨﮓ ﭼﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﻮ ﮨﺎﺳﭙﭩﻞ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺏ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﺴﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﺣﺎﻟﺖ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺍﻣﺮﺍﺽ ﺟﮕﺮ ﮐﮯ ﻭﺍﺭﮈ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺘﮯ ﭘﮩﻨﭽﺘﮯ ﺍﺳﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﺍﯾﮏ ﮔﮭﻨﭩﮧ ﻟﮓ ﮔﯿﺎ۔ ﭘﺮﭼﯽ ﺑﻨﻮﺍﻧﮯ ﻣﯿﮟ 1 ﮔﮭﻨﭩﮧ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﺷﺎﻡ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ۔
ﺭﺍﺕ 10 ﺑﺠﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﻧﺮﺱ ﺁﺋﯽ، ﺍﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺷﯿﻠﻒ ﭘﺮ ﻟﯿﭩﻨﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ۔ ﻗﺒﻞ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﻧﻮﻋﯿﺖ ﺑﺘﺎﺗﺎ، ﻭﮦ ﻧﺮﺱ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﯿﭩﮫ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﺍ ﺍﻧﺠﯿﮑﺸﻦ ﻟﮕﺎ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﻧﺮﺱ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﺯﻭ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺋﯽ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﮈﺭﭖ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﻤﺎ ﺩﯼ۔
ﻣﺮﯾﺾ ﻧﮯ ﮈﺭﺗﮯ ﮈﺭﺗﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮈﺭﭖ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﭘﮑﮍ ﺳﮑﺘﺎ ﮬﮯ؟
ﻧﺮﺱ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﭨﺎﻧﮓ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﺅﮞ ﮐﯽ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﮈﺭﭖ ﮐﯽ ﺑﻮﺗﻞ ﻟﭩﮑﺎ ﮐﺮ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ۔
ﭘﭽﮭﻠﮯ ﺩﻭ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﭨﺎﻧﮓ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﻟﯿﭩﺎ ﺭﮨﺎ، ﺟﯿﺴﮯ ﮐﻮﺋﯽ ٭٭٭٭ ﮐﺴﯽ ﮐﮭﻤﺒﮯ ﺳﮯ ﭨﺎﻧﮓ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﻧﯿﭽﺮ ﮐﺎﻝ ﺍﭨﯿﻨﮉ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ ۔ ۔ ۔
ﺍﺏ ﺍﺳﮯ ﺑﺲ ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮬﮯ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﺡ ﻭﮦ ﮈﺭﭖ ﮐﯽ ﺑﻮﺗﻞ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ، ﻭﮦ ﮨﺎﺳﭙﭩﻞ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺟﺎﺋﮯ، ﭼﻨﮓ ﭼﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺑﮭﺎﭨﯽ ﮔﯿﭧ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﭘﮭﺮ ﺩﻟﮩﻦ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﺠﯽ ﮨﻮﺋﯽ، ﺑﺮﻑ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭨﮭﻨﮉﯼ ﻣﯿﭩﺮﻭ ﻣﯿﮟ 1 ﮔﮭﻨﭩﮯ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﭘﺴﯿﻨﮧ ﺧﺸﮏ ﮐﺮﺳﮑﮯ !

Comments

Popular posts from this blog

Azeem solved past papers for FSc chemistry part 2

Azeem past papers and books by Azeem group of acadmeis are the best books for learning and teaching as well Azeem chemistry of Fsc part 2 are very good guide which include past paers of punjab boards include Ajk and etc Azeem past papers are the best papers ever i see both in quality and quantity I really suggest the students to bye Azeem past solved papers for good result 










Best Urdu paper presentation for Matric and Fsc students

Urdu paper need more presentation to get good marks in it there for irdu paper presentation is very important for all matric and inter students specially for Fsc students sp here is the best urdu presentation for the matric and inter and Fsc students








قد کو کیسے بڑھایا جایا کیا خوارک لی جائے اور کیا ورزش کی جائے

اج کل کے نوجوان طبقہ میں ایک چیز کو بہت زیادہ اہمیت دی جارہی ہے اور وہ ہے قد کہ قد کو کیسے بڑھایا جایا اج ہم اس موضوع پر بات کریں گے اور دیکھیں گے کہ قد میں کونسی چیزیں زیادہ اہمیت کے حامل ہے اور قد کو کس طرح بڑھایا جا سکتا ہے
بڑے قد کی اہمیت
یہ بات تو طے ہے کہ لمبا قد  ایک اچھی نوید ہے لمبے قد والے کو زیادہ پذیرائی ملتی ہے اور وہ زیادہ نمایاں طور پر ابھرتا ہے اسکو سرکاری نوکری جیسے کہ پولیس فوج یا دوسرے اداروں میں نوکری کے حصول میں زیادہ مشکلات پیش نہیں اتی اور خصوصا لڑکیاں کو بھی بڑے قد کا شہزادہ ہی چاہئے ہوتا ہے😂😂😂 بہر لمبے قد کی افادیت بھی ہے اور نقصان بھی
لمبے قد کے نقصانات 
لمبے قد کے اگرچہ فائدے بہت زیادہ ہے مگر اسکے نقصانات بھی اتنے ہی زیادہ ہے عموما لمبے قد والوں کو خاصی تکلیف پیش اتی ہے کہ وہ اپنی لمبی لمبی ٹانگیں کیسے سمیٹ کر بیٹھے اور کیسے سکون کے ساتھ وقت گزارے اسکےعلاوہ اگر قد لمبا ہو مگر بندہ خود پتلا ہو تو اسکا بہت زیادہ مزاق اڑایا جاتا ہے
مناسب قد کتنا ہونا چاہئے
ماہرین کے مطابق مناسب قد زیادہ سے زیادہ ساڑھے چھ انچ ہو اور کم سے کم ساڑھے پانچ انچ ہونا چاپئے اس سے زیاد…