Skip to main content

شریف خاندان ایک بار پھر لندن میں




ﻏﺮﯾﺐ، ﻟﻮﺋﺮﻣﮉﻝ ﮐﻼﺱ ﮔﮭﺮﺍﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﺸﻘﺖ ﺳﮯ ﻋﺒﺎﺭﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ، ﺳُﺴﺮ ﮐﮯ ﻓﺠﺮ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮭﻨﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ، ﭘﮭﺮ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﮑﻮﻝ ﺑﮭﺠﻮﺍﻧﮯ ﮐﯽ ﻣﺸﻘﺖ، ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﭘﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﺍﻭﺭ ﭨﻔﻦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮﮐﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ، ﺟﺐ ﻭﮦ ﺳﺐ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺩﺱ ﺑﺠﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﺎﺱ ﯾﺎ ﺳﺴﺮ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﻟﮓ ﺟﺎﻧﺎ، ﺩﻭﭘﮩﺮ ﺑﺎﺭﮦ ﺑﺠﮯ ﻟﻨﭻ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﻨﺎ، ﭘﮭﺮ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﮑﻮﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﯼ ﺑﭽﮧ ﯾﻌﻨﯽ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﺷﺎﻡ ﭼﮫ ﺑﺠﮯ ﮔﮭﺮ ﺁﻧﮯ ﺗﮏ ﯾﮧ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﮐﯽ ﻣﺸﮑﻼﺕ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺩﻟﺠﻮﺋﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﺎ ﻓﺮﺽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﭼﮫ ﺑﺠﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﮈﻧﺮ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﺟُﺖ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ 9 ﺑﺠﮯ ﺗﮏ ﯾﮩﯽ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﻥ ﮐﯽ ﺗﮭﮑﻦ ﺳﮯ ﻧﮉﮬﺎﻝ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﺍﺭﻣﺎﻥ ﺟﺎﮒ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺣﺪﺕ ﺑﮍﮬﺎ ﮐﺮ ﺭﻭﻣﺎﻧﭩﮏ ﻟﻤﺤﺎﺕ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﮭﮑﻦ ﺳﮯ ﭼُﻮﺭ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﻥ ﮐﯽ ﻣﺸﻘﺖ ﮐﮯ ﺑﻮﺟﮫ ﺗﻠﮯ ﺩﺑﺎ ﮐﺮ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺭﮨﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﺍﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺷﻮﮨﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ' ﺳﮕﻨﻞ ' ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺑﯿﻮﯼ ﭼﭙﮑﮯ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﺑﻐﻞ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﭩﮯ ﻧﻮﺯﺍﺋﯿﺪﮦ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﭼﭩﮑﯽ ﮐﺎﭦ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺑﭽﮧ ﺭﻭﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ۔ ۔ ﺑﭽﮧ ﺭﻭﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺍﻭﺱ ﭘﮍﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ، ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﻣﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﭽﮧ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺗﮭﭙﮑﯽ ﺩﯾﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﮭﭙﮑﯽ ﺩﯾﺘﮯ ﺩﯾﺘﮯ ﻧﯿﻨﺪ ﮐﯽ ﮔﮩﺮﯼ ﻭﺍﺩﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ
 ﺷﺮﯾﻒ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﺜﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﮨﮯ۔ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﻋﯿﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﻃﻦ ﯾﻌﻨﯽ ﻟﻨﺪﻥ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭﻧﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺁﻥ ﭘﮍﮮ، ﻟﻨﺪﻥ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﺑﮭﯽ ﺩﺳﺘﯿﺎﺏ ﻧﮩﯿﮟ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﻏﺮﯾﺐ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻮﺯﺍﺋﯿﺪﮦ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﭼﭩﮑﯽ ﮐﺎﭦ ﮐﺮ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ، ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻧﻮﺍﺯﺷﺮﯾﻒ ﻧﮯ ﯾﮧ ﭼﭩﮑﯽ ﮐﻠﺜﻮﻡ ﻧﻮﺍﺯ ﮐﻮ ﮐﺎﭨﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﺎ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﻟﻨﺪﻥ ﮐﯽ ﭨﮑﭧ ﺑﮏ ﮐﺮﺍﻟﯽ، ﭘﮭﺮ ﻣﺮﯾﻢ ﻧﻮﺍﺯ ﮐﻮ ﯾﮑﻠﺨﺖ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﻣﺎﻣﺘﺎ ﻧﮯ ﺁﻭﺍﺯﯾﮟ ﺩﯾﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﮔﺌﯽ، ﭘﮭﺮ ﺷﮩﺒﺎﺯﺷﺮﯾﻒ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﺷﮩﺒﺎﺯ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﺑﭽﯽ ﮐﮯ ﺭﻭﻧﮯ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻟﻨﺪﻥ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ، ﭘﮭﺮ ﺷﮩﺒﺎﺯﺷﺮﯾﻒ ﻋﯿﺪ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﮐﮯ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﻟﻨﺪﻥ ﻓﻼﺋﯿﭧ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﮩﻨﭻ ﭼﮑﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﺷﺎﯾﺪ ﺣﻤﺰﮦ ﺷﮩﺒﺎﺯ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔
ﺑﮩﺎﻧﮧ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮨﮯ ﮐﻠﺜﻮﻡ ﻧﻮﺍﺯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺩﯾﮑﮭﺌﮯ ﮐﮧ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﺩﺱ ﺑﺮﺱ ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﻋﯿﺪ ﺍﺱ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻧﮯ ﻟﻨﺪﻥ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻣﻨﺎﺋﯽ، ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﻏﺮﯾﺐ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺗﻮ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﮭﮑﻦ ﺳﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﭼﭩﮑﯽ ﮐﺎﭦ ﻟﯿﺘﯽ ﺗﮭﯽ، ﺷﺮﯾﻒ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﺮﺍﻣﺰﺩﮔﯽ ﺳﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﻋﯿﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﻃﻦ ﯾﻌﻨﯽ ﻟﻨﺪﻥ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮔﺰﺍﺭ ﮐﺮ ﺍﺻﻞ ﺧﻮﺷﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ !!! 

Comments

Popular posts from this blog

Azeem solved past papers for FSc chemistry part 2

Azeem past papers and books by Azeem group of acadmeis are the best books for learning and teaching as well Azeem chemistry of Fsc part 2 are very good guide which include past paers of punjab boards include Ajk and etc Azeem past papers are the best papers ever i see both in quality and quantity I really suggest the students to bye Azeem past solved papers for good result 










Best Urdu paper presentation for Matric and Fsc students

Urdu paper need more presentation to get good marks in it there for irdu paper presentation is very important for all matric and inter students specially for Fsc students sp here is the best urdu presentation for the matric and inter and Fsc students








قد کو کیسے بڑھایا جایا کیا خوارک لی جائے اور کیا ورزش کی جائے

اج کل کے نوجوان طبقہ میں ایک چیز کو بہت زیادہ اہمیت دی جارہی ہے اور وہ ہے قد کہ قد کو کیسے بڑھایا جایا اج ہم اس موضوع پر بات کریں گے اور دیکھیں گے کہ قد میں کونسی چیزیں زیادہ اہمیت کے حامل ہے اور قد کو کس طرح بڑھایا جا سکتا ہے
بڑے قد کی اہمیت
یہ بات تو طے ہے کہ لمبا قد  ایک اچھی نوید ہے لمبے قد والے کو زیادہ پذیرائی ملتی ہے اور وہ زیادہ نمایاں طور پر ابھرتا ہے اسکو سرکاری نوکری جیسے کہ پولیس فوج یا دوسرے اداروں میں نوکری کے حصول میں زیادہ مشکلات پیش نہیں اتی اور خصوصا لڑکیاں کو بھی بڑے قد کا شہزادہ ہی چاہئے ہوتا ہے😂😂😂 بہر لمبے قد کی افادیت بھی ہے اور نقصان بھی
لمبے قد کے نقصانات 
لمبے قد کے اگرچہ فائدے بہت زیادہ ہے مگر اسکے نقصانات بھی اتنے ہی زیادہ ہے عموما لمبے قد والوں کو خاصی تکلیف پیش اتی ہے کہ وہ اپنی لمبی لمبی ٹانگیں کیسے سمیٹ کر بیٹھے اور کیسے سکون کے ساتھ وقت گزارے اسکےعلاوہ اگر قد لمبا ہو مگر بندہ خود پتلا ہو تو اسکا بہت زیادہ مزاق اڑایا جاتا ہے
مناسب قد کتنا ہونا چاہئے
ماہرین کے مطابق مناسب قد زیادہ سے زیادہ ساڑھے چھ انچ ہو اور کم سے کم ساڑھے پانچ انچ ہونا چاپئے اس سے زیاد…